مواد پر جائیں مواد پر جائیں
بنیاد امام علی (ع)

ایرانی قوانین اور شہری حقوق کے مطابق عقدِ نکاح کے ضمن میں شرائط

الف) بیوی نے شرط رکھی کہ اگر طلاق بیوی کی درخواست پر نہ ہو اور عدالت کی تشخیص کے مطابق طلاق کا مطالبہ بیوی کی ازدواجی فرائض سے کوتاہی یا اس کے بُرے اخلاق و رویّے کا نتیجہ نہ ہو، تو شوہر پر لازم ہے کہ ازدواجی زندگی کے دوران اپنے حاصل کردہ موجودہ اثاثوں کا نصف یا اس کے برابر مال، عدالت کی رائے کے مطابق، بلا معاوضہ بیوی کو منتقل کرے۔

ب) شوہر نے بیوی کو بلا معاوضہ، دوسرے کو وکیل بنانے کے حق کے ساتھ وکالت دی کہ نیچے بیان کی گئی صورتوں میں عدالت سے رجوع کر کے اور طلاق کی قسم کے انتخاب کے بعد عدالت سے اجازت حاصل کر کے خود کو مطلقہ کر لے، اور اسی طرح ناقابلِ عزل وکالت دی، دوسرے کو وکیل بنانے کے حق کے ساتھ، کہ اگر بیوی کی طرف سے مہر وغیرہ بخش دیا جائے تو وہ شوہر کی جانب سے اسے قبول کر لے۔
وہ صورتیں جن میں بیوی حسبِ موقع عدالت سے طلاق کی اجازت کا مطالبہ کر سکتی ہے، درج ذیل ہیں:

۱- شوہر کا کسی بھی بنا پر ۶ ماہ تک نفقہ دینے سے انکار اور اسے نفقہ ادا کرنے پر مجبور کرنا ممکن نہ ہونا، نیز اس صورت میں جب شوہر بیوی کے دیگر واجب حقوق ۶ ماہ تک ادا نہ کرے اور اسے ادائیگی پر مجبور کرنا بھی ممکن نہ ہو۔

۲- شوہر کا ایسا بُرا سلوک یا بُرا برتاؤ جو بیوی کے لیے ازدواجی زندگی جاری رکھنا ناقابلِ برداشت بنا دے۔

۳- شوہر کا ایسی لاعلاج بیماری میں مبتلا ہونا جس سے ازدواجی تعلق کا جاری رہنا بیوی کے لیے خطرناک ہو۔

۴- شوہر کا پاگل پن، ان صورتوں میں جب شرعاً نکاح فسخ کرنا ممکن نہ ہو۔

۵- شوہر کو ایسے پیشے سے روکنے کے عدالتی حکم پر عمل نہ کرنا جو عدالت کی رائے میں خاندانی مصلحتوں اور بیوی کی عزت و وقار کے منافی ہو۔

۶- شوہر کو حتمی فیصلے کے ذریعے ۵ سال یا اس سے زیادہ قید کی سزا ہونا، یا ایسے مالی جرمانے کی سزا جو ادا نہ کر سکنے کی صورت میں ۵ سال کی قید پر منتج ہو، یا قید اور مالی جرمانے کی ایسی سزا جو مجموعی طور پر ۵ سال یا اس سے زیادہ قید بنتی ہو، اور سزا پر عمل جاری ہو۔

۷- شوہر کا کسی بھی قسم کی نقصان دہ لت میں مبتلا ہونا، جو عدالت کی تشخیص کے مطابق خاندانی زندگی کی بنیاد کو کمزور کرے اور بیوی کے لیے زندگی جاری رکھنا مشکل بنا دے۔

۸- شوہر کا بغیر معقول عذر کے خاندانی زندگی کو ترک کر دینا۔ خاندانی زندگی کے ترک کی تشخیص اور معقول عذر کی تشخیص عدالت کے ذمے ہے، یا عدالت کی نظر میں بغیر معقول عذر کے مسلسل چھ ماہ غیر حاضر رہنا۔

۹- ایسے جرم کے ارتکاب پر شوہر کو حتمی سزا ہونا اور کسی بھی قسم کی سزا (خواہ حد ہو یا تعزیر) پر عمل ہونا جو خاندانی عزت اور بیوی کے شایانِ شان مقام کے منافی ہو۔ سزا کے خاندانی عزت و مقام کے منافی ہونے کی تشخیص، بیوی کی حیثیت اور مقام، عرف اور دیگر معیارات کو مدِنظر رکھتے ہوئے، عدالت کے ذمے ہے۔

۱۰- اگر ۵ سال گزرنے کے بعد بھی شوہر کے بانجھ پن یا دیگر جسمانی عوارض کی وجہ سے بیوی کی اس سے کوئی اولاد نہ ہو۔

۱۱- اگر شوہر لاپتہ ہو جائے اور بیوی کے عدالت سے رجوع کرنے کے بعد ۶ ماہ کے اندر نہ ملے۔

۱۲- شوہر بیوی کی رضامندی کے بغیر دوسری شادی کرے، یا عدالت کی تشخیص کے مطابق اپنی بیویوں کے درمیان عدل نہ کرے۔