بخارسٹ میں ثقافتی اور مذہبی سرگرمیوں کے لیے ایک اسلامی مرکز کے قیام کی ابتدائی بنیادیں ۲۰۰۱ء تک جاتی ہیں، جب حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر محمد جواد اژهای نے یورپ کی اسلامی طلبہ انجمنوں کے اتحاد میں اپنی ذمہ داری کے تحت رومانیہ میں اس انجمن کی سرگرمیوں کے لیے ایک اپارٹمنٹ خریدا۔ انجمن کی سرگرمیوں کے پھیلاؤ اور بخارسٹ میں مقیم ایرانیوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیشِ نظر، بہت سی مذہبی تقریبات اور پروگرام ایرانی اسکول کی جگہ پر اور اس وقت کے محترم سفرائے جمہوریہ اسلامی ایران کی حمایت سے منعقد ہوتے رہے، لیکن اب بھی ثقافتی اور مذہبی سرگرمیوں کے لیے ایک مناسب اور خودمختار جگہ کی فراہمی اور اس کی تجہیز ضروری تھی۔

چنانچہ تقریباً ۲۰۰۴ء میں اسلامی انجمن کا اپارٹمنٹ بیچ کر اور کچھ دیگر رقوم کا انتظام کر کے ۲۵۰۰ مربع میٹر کا ایک قطعۂ زمین خریدا گیا، اور پھر ۲۰۰۷ء میں اس زمین کو بیچ کر ۹۰۰۰ مربع میٹر رقبے کی ایک اور زمین خریدنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ۲۰۱۴ء میں ڈاکٹر مصطفوی اور ڈاکٹر اژهای کی ہدایت پر شہر کے مرکز میں ۱۰۰۰ مربع میٹر زمین اور ۱۳۰۰ مربع میٹر تعمیر شدہ رقبے پر مشتمل ایک عمارت خریدی گئی، اور اسلامی مرکز کی موجودہ عمارت اسی پرانی عمارت کی تعمیرِ نو سے وجود میں آئی۔
اسی مقصد سے ۲۰۰۷ء میں ڈاکٹر اژهای کی سربراہی میں بنیادِ ثقافتیِ امام علی (علیہ السلام) قائم کی گئی، اور عمارت کی ابتدائی تیاری کے بعد ۲۰۱۹ء میں عیدِ سعیدِ فطر کے دن اس سے استفادہ شروع ہوا اور نمازِ عید کی ادائیگی کے ساتھ یہ مرکز عملاً کھل گیا۔ اس عمارت کی تکمیل اور تجہیز کا کام اب بھی جاری ہے اور ہمیں امید ہے کہ قریب مستقبل میں ۱۷۵۰ مربع میٹر سے زائد رقبے پر مشتمل اس عمارت سے مکمل استفادہ ممکن ہو سکے گا۔
انتظامی امور، معاونت اور مرکز کی عمارت کی تجہیز کے ساتھ ساتھ مرکز کے امام کے تعین اور قیام کے لیے ضروری کوششیں بھی سنجیدگی سے جاری رہیں، اور ڈاکٹر اژهای کی منظوری اور ثقافتی اداروں کے ساتھ ضروری ہم آہنگی کے بعد حجۃ الاسلام والمسلمین سید حمید حسینی نے ۲۰۲۰ء کے آغاز میں باضابطہ طور پر یہ ذمہ داری سنبھالی اور رومانیہ میں مرکز کے ثقافتی اور علمی و فکری امور کی نگرانی کے لیے یہاں مقیم ہوئے، اور اب بھی مرکز کے مخاطبین اور رجوع کرنے والوں کی ثقافتی اور دینی ضروریات کے لیے جواب دہ ہیں۔
